ڈراموں، خبروں کو پہلے والے معیار پر لایا جائے ۔کمیٹی


اسلام آباد : ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات  نے سرکاری نشریاتی  اداروں کی کارکردگی رپورٹس طلب کرلیں ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی وی کا معیار بہت گر چکا ہے، ڈراموں اور خبروں کو پہلے والے معیار پر لایا جائے کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پی ٹی وی ہیڈکواٹرمیں ہوا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ پی ٹی وی  قوم کی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دورمیں اس کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں پی ٹی وی میں اصلاحات کی بدولت ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

حکام پی ٹی وی  نے قائمہ کمیٹی کو پی ٹی وی کے سٹرکچر،پروگرامنگ،اورمستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن،ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن اور یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن سمیت لیڈنگ فلم اور ٹی وی پروڈیوسر سے بھی ویڈیو لنک پر مشاورتی سیشن  ہوا۔ پاکستان فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی گئی۔

  فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے شیخ امجد رشید،محمد علی شجاع، ساتش عدنان، حسن رضا پروڈیوسر نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں فلموں کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے متعدد بار میٹنگز کی ہیں فلم پالیسی کے حوالے سے بھی کام کیا گیا ہے مگرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس شعبے کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

کرونا وبا کی وجہ سے فلم اور سینما کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں ابھی بیس فلموں پر کام ہو رہا ہے۔ کم از کم 52فلمیں بنائی جائیں تو صنعت کو فروغ ملتا ہے۔ رواں سال صرف پندرہ فلمیں بن سکیں گی موجودہ حالات کے تناظر میں فلم اور سینما کے شعبوں کو سپورٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فلموں کے فروغ کیلئے ٹیکسز میں کمی لائی جائے ملک میں فلم کے شعبے کی ترقی کیلئے کو پروڈکشن کی ضرورت ہے۔

ریجنل سنیما ز کو فروغ دینا ہوگا۔ ملک میں سینما کی تعداد کم ہو گئی ہے حکومت سینماز کی تعداد بڑھانے کیلئے زمین لیز پر فراہم کرے اور مشنری میں بھی مدد دے۔ چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ فلمی صنعت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ سینما کو انڈسٹری کا درجہ دیا جا رہا ہے اور فلم کی بھی انڈسٹری بنائی جائے گی۔ ملک میں بڑے سینماز قائم کرنے پر بھی حکومت سپورٹ کرے گی۔

جوائنٹ ونچر پر بھی کام ہو گا۔ فلم کی جلد پالیسی لائی جا رہی ہے جس میں بہتری کیلئے 17چیزیں شامل ہیں اور جو تحفظات اٹھائے گئے ہیں وہ تقریبا پالیسی میں شامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی کا بورڈ نان فنکشنل ہے اور بورڈ کے حوالے سے معاملات عدالت میں ہے۔ قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی کے پہلے اسٹریکچر اور موجودہ اسٹریکچر کی کارکردگی  اور تنخواہوں کی موازنہ رپورٹ طلب کر لی۔

کمیٹی نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور ایم  ڈی پی ٹی وی کو ہدایت  کی ہے کہ کرتے ہوئے ملازمین جو ریٹائر ہو نے والے ہیں ان کے معاملات کو جلد سے جلد حل کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے پرانے بورڈ کے منٹس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ ارکان نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ پی ٹی وی سے لوگ اپنے تلفظ ٹھیک کرتے تھے مگر اب معیار بہت نیچے آ چکا ہے اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ٹی وی کے ڈراموں اور خبروں کا ایک معیار ہوتا تھا۔ اسکو پہلے والے معیار پر لایا جائے۔قائمہ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی ویژن نیوز روم کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی  نے کہاکہ  ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور ان کے حل کیلئے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نینیوز اور ڈراموں کے حوالے سے لیگسی کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔