تمباکو کنٹرول کرنے والے کارکنوں کا حکومت سے تمباکوکی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ

اسلام آباد : تمباکو کنٹرول کرنے والے کارکنوں نےحکومت سے تمباکو کی مصنوعات پر عائد مجودہ ٹیکس کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اسلام آباد میں انسداد تمباکو سے متعلق منعقدہ
سمینار کے شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔

اس حوالے سے شرکاء کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے ٹیکس کے دو طریقے ہیں۔ جن سگریٹ کی قیمت 90 روپے سے کم ہے ان پر 33 روپے اور جن سگریٹ کی قیمت 90 روپے سے زیادہ ہے ان پر 90 روپے کا ٹیکس عائد ہے۔ یہ ٹیکس ابھی بھی ورلڈ ہیلتھ اورگنائزیشن کے تمباکو کنترول فریم ورک کنونشن کے طے شدہ معیار سے کم ہے جس کا پاکستان 2005 سے دستخط کنندہ ہے۔ پاکستان نے ابھ تک یہ معیار حاصل نہیں کیا۔

انہوں نے سگریٹ کے ہر سلیب کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کم از کم 30 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تا کہ محصولات میں اضافہ ہو اور نوجوانوں میں تمباکو کی
کھپت کو کم کیا جا سکے۔

وسیم، سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنتر نے کہا کہ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس اب بھی 90 بلین سے نیچے ہے۔ ایف بی آر نے 2015-2016 مین یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ جون 2019 کے بعد سے، سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں کوئ تبدیلی نہی کی گئ ہے لیکن سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کی بنیادی وجہ ایکسائز ڈیوٹی نہیں تھی۔ اسکی وجہ ٹیکس کی قیمتوں میں میں اضافے کی وجہ سے تھا۔

قیمتوں میں ٹیکس کی حد سے زیادہ تبدیلی دوہری مقصد کی تکمیل کرتی ہے۔ اس سے ہر صنعت کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور سال 2020 کے لئے ٹیکس کی شرح میں کسی بھی قسم کے ٹیکس اضافے سے بچنے کے لئے صنعت اس قیمت میں اضافے کا استعمال کرتی ہے۔ ان کے نتائج میں 35 ارب اور 15 ارب تک کا نقصان ہوا۔ اس تناظر میں حکومت سے ٹیکس میں اضافے کی سفارش ہے۔

پائداری ترقی کے لئے قائم غیر سرکاری تنظیم ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ کویڈ 19 وبائ بیماری کی وجہ سے اب بھی حکومت کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ انہون نے مزید کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کی مجموعی معاشی لاگت کا تخمینہ 2012 میں 143 ارب تھا۔ اس میں صحت کی دیکھ بھال کے براہ راست اخراجات اور کھوئے ہوئے پیداواری کی وجہ سے ہونے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے آئندہ بجٹ میں افراط زر کی شرح کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے حکومت کو تمباکو کی مصنوعات پر موجودہ ایف ای ڈی کو کم سے کم 30% بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔

سینٹر عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تمباکو کا استعمال قابل علاج موت کی دنیا کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تمباکو کے استعمال کا بوجھ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ ہے جسے تمباکو انڈسٹری نے اپنی جان لیوا مصنوعات اور دھوکہ دہی سے متعلق مرکیٹنگ کے طریقوں سے نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا اس کی کھپت پر قابو پانے اور اسے کم کرنے کے لئے ایک موئثر قدم ہے۔

مزید پڑھیں: نادرا سگریٹ کی غیرقانونی تجارت روکنے میں ایف بی آرکی معاونت کرسکتا ہے

انہوں نے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کے لئے بھی اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا ایف ای ڈی اور ہیلتھ لیوی جس میں افراط زر کی شرحوں میں وقتا فوقتا ایڈجسٹمنٹ کی جاتی تھی تا کہ نوجوانوں میں اس تک رسائی ناممکن ہو۔