کچھ فیس بک کے بارے-شکیل احمد ترابی

بیس سال کی عمر میں فیس بک بنا کر چھتیس سالہ Mark Elliot Zuckerberg دنیا کا تیسرا امیر ترین آدمی بن گیا۔ اس کے اثاثوں کی مالیت 100 بلین ڈالرز سے زائد ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ مارک کا ہے مگر فیس بک جس طرح سے مسلمانوں کا استحصال کررہی ہے اس سے یہ بات بہت واضح ہے کہ اس سارے منصوبے کے پیچھے یہودی ذہنیت ہے۔ مارک خود یہودی نظریات کا پرچارک تھا، اس کی اہم شراکت دار Barbara Zuckerberg یہودیوں کی ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم چلاتی ہے۔اس لابی کی منصوبہ بندی سے کھربوں کا کاروبارہی نہیں کیا گیا بلکہ دنیا کو فیس بک کا اسیر اور خفیہ ایجنڈا ہم پر مسلط کر دیا گیا۔مجھ جیسے کروڑوں سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس پلیٹ فارم سے اپنے نظریات و پیغام دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ ہر گز نہیں ، یہ محض ہماری خام خیالی ہے۔ بلیوں اور کتوں کے حقوق کے چمپئینز کو مسلمانوں کے قتل عام کی کوئی پرواہ نہیں۔ فلسطین، کشمیر، افغانستان یا کسی اور مظلوم مسلمان کے حق میں آپ چند جملے لکھئیے فورا آپ کو فیس بک انتظامیہ کی طرف سے پیغام موصول ہو جائے گا کہ آپ نے ہمارے سماجی معیارات کی پابندی نہیں کی لہذا اتنے عرصے کے لئے آپ کچھ پوسٹ کر سکتے ہیں اور نہ تبصرہ۔ اللہ نے فرما رکھا ہے کہ کفر ملتِ واحدہ ہے، ہم روز اس فرمان ربی کا مظاہرہ دیکھ کر بھی بتوں سے امید اور خدا سے نومیدی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
جون 2019 میں کشمیری حریت پسند ذاکر موسی کی شہادت پر میں نے چند جملے لکھے تو میرے کئی فیس بک اکائونٹس ہی نہیں واٹس ایپ نمبر بھی بلاک کر دیا گیا۔
دس سال سے زیادہ عرصے کا ڈیٹا ضائع ہوگیا۔ ہم کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ منسلک نوٹس ملاحظہ کیجئے۔ ایک عاشق رسول صلعم کی پوسٹ اِن سے برداشت نہ ہو سکی اور ایک ماہ تک کچھ لکھنے یا تبصرہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس سے ہٹ کر بھی دو نوٹسِسز ملے تھے کہ آپ کا اکائونٹ رِسک پر ہے کسی وقت بھی بلاک کیا جاسکتا ہے۔خیال تھا مزید تحقیق کرکے کالم لکھونگا مگر تنگیِ وقت نے اجازت نہ دی۔ اپنے احباب سے بس یہ گزارش کرنا مقصود ہے کہ اب کی بار فیس بک نے اکائونٹ بلاک کیا تو انشااللہ اس پلیٹ فارم کو ہمیشہ کے لئے Good Bye کہونگا۔ مجھ اکیلے کے ایسا کرنے سے فیس بک انتظامیہ پر کوئی اثر پڑے گا نہ نقصان ہوگا مگر اپنے ضمیر کے اطمینان کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔
اللہ کرے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر بیدار ہوں اور ہم ایسے پلیٹ فارمز کے بائیکاٹ اور اپنے ادارے بنا سکیں۔