ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں علماءکرام کا کلیدی کردار ہے،عمران خان

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے حوالے سے جید علما کرام کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔علمائے کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل میں علمائے کرام کی مشاورت اور رہنمائی جاری رہے۔

ان خیالات کا  اظہار وزیر اعظم نے یہاں علما و مشائخ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے جمعرات کو یہاں ان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری بھی موجود تھے۔وفد میں پیر محمد امین الحسنات شاہ، پیر چراغ الدین شاہ، ڈاکٹر قبلہ ایاز، پیر نقیب الرحمن، مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر حبیب عرفانی، صاحبزادہ محمد حامد رضا، سید ضیا اللہ بخاری، پیر سلطان احمد علی حق باہو، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی ابو بکر محی الدین، مولانا محمد عادل عطاری، مولانا محمد طیب قریشی، مفتی فضل جمیل رضوی، مولانا حامد الحق، پیر شمس الامین،پیر حبیب اللہ شاہ، محمد قاسم قاسمی، صاحبزادہ محمد اکرم شاہ اور پیر مخدوم عباس بنگالی شامل تھے،

وزیر اعظم نے کہاکہ امت مسلمہ میں تفریق اور تقسیم پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں علما کرام کے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے اسلام فوبیا سے متعلق سب سے زیادہ آواز اٹھائی۔وزیراعظم نے علما پر زور دیا کہ تفریق پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے علما کے تعاون کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے ملک کودرپیش مسائل سے نمٹنے میں علمائے کرام کے کردار کی تعریف بھی کی۔اس موقع پر علما کرام نے وزیرِاعظم عمران خان کو عالمی سطح پر اسلام فوبیا کے خلاف موقف اپنانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔