سری نگرمیں سانحہ گاؤ کدل کے خلاف مکمل ہڑتال


سری نگر:مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں سانحہ گاؤکدل کے خلاف مکمل ہڑتال رہی۔ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ بھارتی فوج نے 21 جنوری 1990کو گاؤ کدل سری نگر میں نہتے شہریوں پر فائر کھول دیا تھا جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد بے گناہ کشمیری شہید ہوئے تھے۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے سانحہ گاؤ کدل کے خلاف مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی۔گاؤ کدال،بسنت باغ،کنی کدال،چھوٹا بازار،عیدگاہ،درگاہ،رعناواری،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج،صفا کدال،میسومہ اور شہر کے دیگرعلاقوں میں تمام دکانیں اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔

کشمیریوں کی عظیم الشان قربانیوں کو ہم کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے،علی گیلانی

کے پی آئی کے مطابق قابض حکام نے سرینگر اوردیگرعلاقوں میں بھارتی فوجیوں اورپولیس کے جوانوں کوبرید کے لئے تعینات کیا ہے تاکہ لوگوں کو قتل عام کے خلاف مظاہرے کرنے سے روکیں۔ہندوستانی فوج نے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی نقل مکانی کی اجازت نہ دینے کے لئے مرکزی سڑکوں کے تمام داخلی مقامات پر راستے کھڑے کردیئے ہیں۔نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ 26جنوری کے سلسلے میں مقبو ضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ منفی درجہ حرارت اور کڑاکے کی سردی کے باوجود بھارتی فورسز کا درجنوں علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری رہا آرونی بجبہاڑہ کے متصل کولگام ضلع کے حدود میں آنے والے 3دیہات کا وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن کیا گیا۔

تینوں دیہات کو صبح 10بجے سے سہ پہر 4بجے تک محاصرے میں رکھا گیا اور اس دوران گھر گھر تلاشیاں لیں گئیں۔ اس سے قبل چھوٹی پورہ امام صاحب شوپیان میں بھی تلاشی کارروائی کی گئی۔محلہ وہی بگ پلوامہ،بد بجبہاڑ ہ کے پو شہ کریری گائوں اورناہ بل سانبورہ پانپور کا صبح سویرے محاصرہ کیا گیا اور سبھی راستے سیل کئے گئے۔گائوں میں کئی گھنٹوں تک تلاشیاں لیں گئیں ،