سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی،بھارت مقبوضہ کشمیر میں نیا ڈیم بنائے گا


نئی دہلی:بھارتی حکومت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبو ضہ کشمیر میں ریتلے پن بجلی پروجیکٹ کی منظور ی دے دی ہے۔دریائے چناب پر 5282کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 850 میگا واٹ ریتلے پن بجلی پروجیکٹ مکمل کیا جائے گا۔یہ منظوری گزشتہ روز وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت یونین کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

کے پی آئی کے مطابق دریائے چناب پر کشتواڑ میں بھارتی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن(این ایچ پی سی )اور جموں وکشمیر اسٹیٹ پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے ایس پی ڈی سی ) کا یہ مشترکہ کا منصوبہ ہوگا۔اس منصوبے میں 51 فیصد اور 49 فیصد شراکت داری ہوگی۔ بھارتی حکومت 776.44 کروڑ روپے فراہم کرے گی۔ پراجیکٹ 60 مہینوں میں شروع کیا جائے گا۔ متنازعہ ڈیم کی تعمیر پاکستان کا پانی روکنے کی سازش ہے ۔ بھارت خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے اور اس پر دبائو ڈالنے کیلئے پاکستان کے آبی وسائل پر ڈیم تعمیر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ نے ریتلے پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے ۔جموں وکشمیر کو اِس بڑے پروجیکٹ سے اب تک اس لئے محروم رکھا گیا ہے کیوںکہ سابق حکومتیں پاکستان کی بین الاقوامی عدالت اور عالمی بینک جانے کی دھمکیوں سے ڈرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ توانائی کے اِس منصوبے کے علاوہ ، کوار پروجیکٹ (540 میگاواٹ) پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 4,264 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی جموں وکشمیر میں 2000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔مزید چار منصوبے (کیرتھائی II 930میگاواٹ) ، ساولکوٹ (1,856 میگاواٹ) ، اوڑی 1 (مرحلہ ۔II) (240میگاواٹ) اور ڈلہستی (مرحلہ۔ II) (258 میگاواٹ) میں31,000 روپے کی سرمایہ کاری سے آگے بٹھایا جائے گا۔یہ منصوبے دریائے چناب اور اس کے معاونوں پرپکل ڈل(1000 میگاواٹ) اور کیرو (624 میگاواٹ) کے دو جاری منصوبوں کے ساتھ مل کر لگ بھگ 52,821کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سال 2018 تک جموں و کشمیر میں صرف 3500 میگاواٹ کے منصوبے قائم کئے گئے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے اگلے پانچ برسوں میںیوٹی میں 6300 میگاواٹ کی گنجائش والے منصوبوں پر کام کرے گی