احساس کفالت پروگرام میں کسی سیاسی ورکر کو شامل نہیں کیا جائے گا، ثانیہ نشتر


راولپنڈی:وزیراعظم کی مشیر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس کفالت پروگرام سے متعلق جعلی پیغام پھیلانے والوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں۔ پروگرام میں کسی بھی سیاسی ورکر کو شامل نہیں کیا جائے گا جبکہ پروگرام کے تحت ملک میں 63فیصد سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔

مشیر وزیراعظم ثانیہ نشتر نے راولپنڈی ڈی سی آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے احساس پروگرام غیر سیاسی انداز میں چلایا جائے۔ سروے ڈیجیٹل انداز میں اور بغیر چارجز کیا جارہا ہے۔ سروے کے ذریعے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کا تعین کیا جارہا ہے۔ احساس کفالت ملک کے 41شہروں تک پہنچ چکا اور 75اضلاع میں سروے جاری ہے۔

مزید پڑھیں:بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 'احساس کفالت پروگرام' متعارف کرانے کا فیصلہ

ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ پہلے فیز میں 25 اضلاع کے اندر شروع کیا گیا جبکہ 13 اضلاع میں شروع ہونا باقی ہے۔ اس دفعہ اساتذہ کی مدد سے ڈیجیٹل سروے کیا جائے گا۔ ضلع راولپنڈی میں احساس سروے پروگرام کا اجرا کیا جارہا ہے۔ راولپنڈی کی سات تحصیلوں میں احساس سروے 25جنوری سے شروع ہوگا۔ نئے صارفین کو احساس کفالت، احساس نشوونما وسیلہ تعلیم سمیت دیگر پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی مشیر نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام کے حوالے سے جعلی میسج چلانے والوں کے خلاف کاروائیاں کررہے ہیں۔ جعلی میسج چلانے والوں کے سوشل میڈیا پیجز کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ احساس کفالت پروگرام میں کسی بھی پارٹی ورکرز کو شامل نہیں کیا جائے گا۔احساس کفالت پروگرام کے تحت ملک میں 63 فیصد سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔

ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام پر کام کرنے والے اساتذہ کو سیکورٹی فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔ احساس سروے کے تحت تحصیل کی سطح تک رجسٹریشن ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ احساس کفالت کا بجٹ 200ارب ہے،احساس بجٹ کے تحت خواتین کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ ہسپتالوں کے اندر احساس نشونما کے تحت ملک کے 13 اضلاع میں ڈیسک قائم کیئے گئے ہیں جبکہ دیگر شہروں میں بھی مزید ڈیسک 3 ماہ کے اندر قائم کردیئے جائیں گے راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں احساس تحفظ کے نام سے پروگرام کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔