امیر جماعت اسلامی پاکستان نے عوام کی طرف سے 41 ٹیکسوں کی ادائیگی کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کر دیں


اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے عوام کی طرف سے 41 ٹیکسوں کی ادائیگی کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی ۔ شرم کا مقام ہے کفن پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کو اسامہ ستی کے والد کو اپنے پاس بلانے کی بجائے اس کے گھر جا کر پولیس گردی پر معافی مانگنی چاہیے تھی ۔

اجلاس چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا۔ بدامنی کے حالیہ واقعات بجلی تیل گیس کے بحرانوں اور دیگر اہم امور پر ارکان سینٹ نے اظہار خیال کیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے احتساب کی یکطرفہ کارروائیوں کا معاملہ اٹھایا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ  ملک میں عرصہ دراز سے یہ تماشا لگا ہوا ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے پر ہی الزام تراشی کرتے نظر آئے ہیں ۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جو آج بیانیہ پیش کیا ہے اسی پرجوش انداز میں وہ پیپلز پارٹی کے دفاع کے لیے بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں ۔ جو جواب پیپلز پارٹی کے دور میں دیتے تھے وہی جواب تحریک انصاف کے دور میں دے رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی اپنے دور میں احتساب کے حوالے سے جو بیان مسلم لیگ ن کے بارے دیتی مسلم لیگ کی  حکومت آتی تو اس قسم کا بیان پیپلز پارٹی کے لیے نظر آتا ۔ بابر اعوان پیپلز پارٹی کے بھی بہترین وکیل تھے انہیں داد دینی چاہیے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نیب کے بارے میں سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں ۔ نیب پاکستان کے کسی معزز شہری پر الزام لگایا ہے پھر میڈیا میں اسے بدنام کرتا ہے چاہے بعد میں کچھ بھی ثابت نہ ہو ۔ ایوان بالا میں مرحوم سینیٹر حاصل بزنجو یہ کہہ کر روتے دکھائی دئیے کہ میری بیٹی کو کالج میں اس کی کلاس فیلوز نے طعنے دئیے ہیں کہ  ان کے والد نے کرپشن کی کیونکہ نیب نے ان کی کوئٹہ اور گوجرانوالہ میں جائیدادیں بتائی تھیں اب اگر زم زم میں بھی نہا کر یقین دہانی کرائے کیا نیب کی بدنامی کسی کو منہ دکھانے کے قابل چھوڑتی ہے .

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں دباؤ میں قوانین بنائے جاتے ہیں مخالفین کو دبانے کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے نیب کے یہ قوانین پرانی حکومتوں نے  ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کے لیے بنائے مگر آج خود پھنس گئے ہیں ۔ قوم کے لیے قانون سازی کے لیے ہر قسم کی تعصب کی عینک کو پھینکنا ہو گا ورنہ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ میں نے نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی تصویر دیکھی جس میں وہ ایک سیاہ فام کے قتل کے واقعہ پر اس کی بیٹی کے سامنے دوزانوں بیٹھ کر ریاست کی طرف سے معافی مانگ رہا تھا ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بعد پولیس گردی کا سامنا ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اس قابل بھی نہیں ہیں کہ  اس پولیس گردی کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگیں اور مقتول اسامہ کے والد کو اپنے پاس بلوا لیا ۔ 950 دنوں میں اندھیروں لاک ڈاؤن کریک ڈاؤن کے علاوہ حکومت نے کیا دیا ہے ۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ چند لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں میں عمران خان کو آگاہ کرتا ہوں کہ ایک پاکستانی انکم ٹیکس ، پراپرٹی ، ویلتھ ، کیپیٹل ، پروفیشنل ، روڈ ، لیوی ، کسٹم ، ٹول ٹیکس ، پانی ٹیکس ، ادویات ٹیکس ، جنرل سیلز ٹیکس ، یہاں تک کہ کفن پر بھی ٹیکس دیتا ہے ۔ شرم کی بات ہے عام پاکستانی 41 مختلف قسم کے ٹیکس ادا کر رہا ہے ۔ حکومت کو مہنگائی کے اعداد و شمار بھی آگاہ کرتا ہوں ۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10.04 ، بھارت میں 6.9 ، بھوٹان 3.6 ، سری لنکا 4.7 ہے ۔ پاکستان میں قوت خرید ختم ہو چکی ہے علاج یہی  ہے کہ اسلامی نظام نافذ کرو ، سود کا خاتمہ کرو 950 دنوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکمران ایک قدم بھی نہ اٹھا سکے ۔