یاسین ملک کے خلاف اغوا، قتل کے جعلی مقدمے کی سماعت29 جنوری کو ہوگی


نئی دہلی:جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیرمین یاسین ملک کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت ٹاڈا میں جعلی مقدمے کی سماعت29 جنوری کو ہوگی۔ جموں میں  ٹاڈا  عدالت کے جج نے  ڈاکٹر روبیہ سعید اغوا کیس کی سماعت کے لیے 29 جنوری کی تاریخ طے کی ہے ۔ مقدمے کے فریقین کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

یاسین ملک پر31 سال قبل بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ سعید کے اغوا اور بھارتی ائر فورس افسران کے قتل کا الزام ہے ۔بھارتی حکومت نے چیرمین یاسین ملک کو جموں کی ٹاڈا عدالت سے سزا دلوانے کے لیے چیف پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ہے ۔

یاسین ملک کے خلاف قتل،اغوا کے مقدمے کی سماعت29 جنوری کو ہوگی

بھارتی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے ہندو انتہا پسند قانون دان مانیکا کوہلی کو یاسین ملک کیس میں چیف پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے جبکہ یاسین ملک کے خلاف جموں کی ٹاڈا عدالت میں ڈاکٹر روبیہ سعید اغوا کیس اور بھارتی ائر فورس افسران قتل کیس میں فرد جرم پہلے ہی عائد ہو چکی ہے۔کے پی آئی کے مطابق جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین یاسین ملک ان دنوں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف ان دو مقدمات کے علاوہ بھی کئی مقد مات درج ہیں۔

خاتون چیف پراسیکیوٹر مانیکا کوہلی مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں سات سالوں سے سی بی آئی کی نمائندگی کررہی ہیں۔کوہلی نے محمد یاسین ملک کی ضمانت کی درخواست کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ مانیکا کوہلی کو تین سال کے لئے چیف پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔

دریں اثنا بھارتی جریدے دی ویک نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکومت محمد یاسین ملک کے ساتھ کشمیری نوجوان محمد افضل گرو جیسا سلوک کر سکتی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس خوف کو محسوس کر رہے ہیں کہ بی جے پی حکومت کانگریس کی طرح ڈاکٹر روبیہ سعید اغوا کیس اور بھارتی ائر فورس افسران قتل کیس میں محمد یاسین ملک کے ساتھ محمد افضل گرو والا سلوک کر سکتی ہے ۔جموں میں بھارت کی

خصوصی عدالت ٹاڈا یاسین ملک سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے ۔31سال پرانے اغوا کے مقدمے میں یاسین ملک کے ساتھ ساتھ علی محمد میر، محمد زمان میر، اقبال احمد گندرو، جاوید احمد میر، محمد رفیق پھلو، منظور احمد صوفی، وجاہت بشیر، معراج الدین شیخ اور شوک احمد بخشی پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔