سینیٹرسراج الحق نے سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلیٹ کی مخالفت کردی


اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلیٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اپنے ارکان سے خطرہ ہے عام ووٹرزپراعتماد ہے تو عوام کے منتخب ارکان پراعتماد کیوں نہیں اگر منتخب ارکان پراعتماد نہیں تو حکومت کواپنے ارکان تبدیل کرنے چاہیئیں،ملک کا پورانظام یرغمال ہے سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت نہیں اور نیب خود قابل احتساب ادارہ بن چکا ہے ۔

صباح ڈیجیٹل نیوزکو خصوصی انٹرویومیں سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں میڈیا کا کردار اس لئے اہم ہے کہ اس وقت میڈیا جنگ کا ایک سب سے موثر ذریعہ ہے اور آج بھی اور ہمیشہ سے ماضی میں بھی رہا ہے۔ نفسیاتی اور اعصابی دباؤ بڑھانے کے لئے، دشمن کی گھناؤنی سازش سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے اور اپنی امت، قوم و ملت کا حوصلہ بنانے کے لئے اسلحہ سے بھی زیادہ اگر کوئی کارگر اور موثر چیز ہے تو وہ میڈیا ہے اس لئے یہ میدان جنگ کا باقاعدہ ایک موثر ہتھیار ہے اس کو استعمال کرنا چاہئے، یہ فرض ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ ہمارا تو پورا نظام ہی یرغمال ہے، یہاں جمہوریت بھی برائے نام ہے، جو سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں خود ان کے اندر دور دور تک جمہوریت دکھائی نہیں دیتی۔ ایک خاندانی بادشاہت ہے اور ان کی ساری جمہوریت اور ساری سیاست کچھ خاندانوں کے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو اندر اور باہر حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری اور ترقی پسند جماعت ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کا الیکشن ایک ایسا معرکہ ہوتا ہے جس میں صلاحیت یا قابلیت سے زیادہ پیسوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور گزشتہ سینیٹ الیکشن میں بھی ایک ایک کر کے ممبر کی قیمت لگی اور لوگ فروخت ہو گئے اور خود اس خرید و فروخت میں پی ٹی آئی نے اپنے 20 ارکان کو نکال بھی دیا اور اس بار حکومت کو یہ خطرہ ہے کہ اگر خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر یہ عمل ہوا تو ان کے اپنے لوگ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ اس لئے ان کا مطالبہ اور کوشش یہ ہے کہ ہاتھ اٹھا کر اپنی حمایت کا اعلان کرے

سراج الحق نے کہاکہ کہ ان کی جماعت کا موقف یہ ہے کہ اگر آپ پاکستان میں ایک عام ووٹر پر اتنا اعتماد کرتے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کا خفیہ استعمال کرتے ہیں پولنگ بوتھ میں جا کر تو ان ووٹروں کا جو نمائندہ ہوتا ہے آپ اس پر اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ ہاں اگر آپ نے اتنے کمزور آدمی کو ممبر بنایا ہے تو اپنے ممبر کو تبدیل کر لیں، باصلاحیت اور بااعتماد آدمی کو سامنے لائیں، سپریم کورٹ میں اس وقت جو کیس ہے آج جماعت اسلامی نے بھی اپنے ایک وکیل کے ساتھ بات کی ہے اور اس میں حصہ لے رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ مقننہ ہو، عدلیہ ہو، انتظامیہ ہو اور وہ اس کا پابند ہو، وہ اچھا کرے یا برا کرے اس کے ساتھ چلیں اور تمام سٹیک ہولڈرز ان کی ہاتھ کی گھڑی ہوں اور جیب کی گھڑی ہو ہاتھ کی چھڑی ہو جس کی ہمیشہ ہم نے مخالفت کی ہے اور اب بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ نیب اب خود ایک قابل احتساب ادارہ بن گیا ہے۔ گزشتہ 900 دنوں میں اس کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ نیب کے اقدامات یکطرفہ ہیں۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ اگر آپ اپوزیشن والوں کا احتساب کرتے ہیں تو پہلے آپ حکومت والوں کا احتساب کریں۔ ادارے کے دوہرے معیار کے باعث اس پر عوام کا اعتماد کمزور ہو گیا ہے جہاں تک نیب قوانین میں تبدیلی کی بات ہے۔ تو ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ تبدیلیاں کون سی چاہتے ہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں جو بڑے مگرمچھ ہیں انہیں ریلیف ملے اور جو غریب اور عام آدمی ہے ان کی پکڑ دھکڑ ہو جس طرح سے آج تک ہم دیکھ رہے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے علم میں ہو تو ملاکنڈ ڈویژن میں وہاں کے مسائل جماعت نے اٹھائے ہیں۔ پشاور اور لاہور کے مسائل جماعت نے اٹھائے ہیں۔ کراچی میں وہاں کے لوگوں کے مسائل مسلسل جماعت نے اٹھائے ہیں۔ ہمارے قومی اور علاقائی مسائل پر مسلسل احتجاج ہوتا رہتا ہے۔ دھرنا کے نام اگر آپ نے سنا ہے تو اب تک تو کسی نے دیا نہیں ہے اور اگر دیں گے تو ہم بھی دے لیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی نے ملک کے اندر عوام کی خاطر کے تحریک شروع کی ہے۔ سب سے پہلا جلسہ باجوڑ ضلع میں ہوا، پھر بونیر میں ہوا، سوات میں ہوا، دیر اور گوجرانوالہ میں ہوا اور اب کچھ دن بعد انشاءاللہ سرگودھا میں ہمارا بہت بڑا جلسہ ہو گا۔ اسی طرح ہم نے جلسوں کا ایک شیڈول بنایا ہے اس میں ریلیاں بھی ہیں جلسے بھی ہیں اور جلوس بھی ہیں۔ یہ ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے کہ میرا یا میری پارٹی کے کسی آدمی کا کیس ہے، بنیادی مسئلہ ہمارا غریب اور عام آدمی کا مسئلہ ہے جو اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری کے دلدل میں پھنس گیا ہے۔ ان کی آواز کوئی سننے کے لئے تیار نہیں۔

ملک میں بدامنی سے متعلق ایک سوال پر سراج الحق کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ پر تفصیلی بات کی ہے آپ سینیٹ کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں، اسلام آباد میں جس دن نوجوان اسامہ ستی کے قتل کا واقعہ ہوا، سب سے پہلے جماعت اسلامی نے اس کی لاش اٹھائی، سڑک بند کی، پانچ سے چھ گھنٹے تک احتجاج کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے روڈ بلاک کئے رکھی۔ ہماری قیادت نے ان تمام لوگوں کو لیڈ کیا اور مسلسل اس گھرانے کے ساتھ رابطہ بھی ہے۔ کوئٹہ میں واقعہ ہواہم وہاں گئے، پشاور میں واقعہ ہوا ہم وہاں بھی گئے۔ پھر قصور واقعے سمیت ہر واقعے کی بات ہم نے سینیٹ میں بھی کی اور قومی اسمبلی میں بھی بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی طرف سے مسلسل عوام کی ترجمانی کر رہی ہے۔ اور انشاءاللہ ہم اس مہم کو جاری رکھے گی، اس میں کوئی شک نہیں کہ بدامنی ہے لیکن اس کا علاج کیا ہے۔ واحد علاج ملک میں اسلامی نظام ہے۔ اللہ کے نظام میں امن اور خوشحالی ہے۔ اللہ کے نظام بھائی چارہ، عدل، انصاف اور مساوات ہے۔ جب تک پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو جس کی بھی حکومت آئے گی مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آج بھی وزیراعظم صاحب کا بیان ہے کہ ہماری حکومت کی کارکردگی خراب ہے اور انہوں نے وزراءپر تبصرہ کیا ہے کہ لوگ آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ تو انہوں نے بالکل ٹھیک کہا کہ اگر کھلاڑی ٹھیک نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کپتان بھی ٹھیک نہیں۔ قوم جو محسوس کر رہی ہے وزیراعظم نے آج اپنی ناکامی و نااہلی کا اعتراف بھی کیا۔ گزشتہ دنوں بھی وزیراعظم نے یہی بیان دیا تھا کہ ہم ایک سال تک یہ نہیں جانتے تھے کہ ہمیں جانا کس طرف ہے اور ہمارا بالکل کوئی تجربہ نہیں تھا حکومت لینے سے قبل ہم نے مکمل تیاری نہیں کی تھی۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جب وہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم ناکام ہیں، ہم نااہل ہیں ہم ڈیلیور نہیں کر سکے تو عام آدمی بھی یہی بات کر رہا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کا علاج کیا ہے۔ علاج یہی ہے کہ اس ملک میں ایک ایسی منظم جماعت کی حکومت قائم ہو جائے جو نظریہ پاکستان کی علمبردار بھی ہو، دیانت دار اور کرپشن فری بھی ہو، وہ آ کر اس ملک کو سنبھال سکے یہ ملک آگے جائے گا۔ انشاءاللہ۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ عوام کے پاس اب کوئی اور آپشن نہیں ہے۔