صحت،غذائیت کے شعبوں کو اہم ترجیح بنانے کی ضرورت ہے۔ماہرین


اسلام آباد: کورونا وبا کے بعد کی صورتحال میں ملک کو صحت اور غذائیت کے حوالے سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صحت اور غذائیت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام سب کے لیے صحت اور غذائیت کی ضرورت اور درپیش رکاوٹیں کے موضوع پر منعقہ مکالمے کے دوران اپنی گفتگو میں کیا۔

ہیلتھ سروسز اکیڈیمی کے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد اے خان نے کہا کہ پاکستان میں صحت کی سہولتوں اور غذائیت کے ضمن میں اشاریے انتہائی مایوس کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا اور صحت کے شعبے پر زیادہ رقوم خرچ کرنا ہوں گی۔

مرسی کور کی ڈاکٹر فرخندہ اختر نے ماں اور بچے کی صحت اور اس ضمن میں طبی سہولتوں کی ناکافی رسائی کا ذکر کرتے ہو ئے کہا کہ کورونا با کے باعث صورتحال میں پہلے سے زیادہ ابتری آئی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر شفقت منیر نے زور دیا کہ صحت کے شعبے پر زیادہ رقوم خرچ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے قبل بھی پاکستان میں صحت کی سہولتوں کے حوالے سے صورتحال زیادہ تسلی بخش نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب کو صحت کی سہولتوں تک رسائی کے ضمن میں حکومت کا عہد خوش آئند ہے اور اس پر عمل درآمد سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ صحت اور غذائیت کو پالیسی اقدامات کے لیے ترجیح بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔غذائیت کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عالیہ حبیب نے کہا کہ قومی سیاسی جماعتوں کی جانب سے  ملک میں غذائیت کی صورت حال میں بہتری کی کاوشوں کے حوالے سے مثبت رد عمل ظاہر کیا گیا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر وحید چوہدری اور ڈاکٹر عائشہ بابر کاوش نے اپنی گفتگو میں صحت اور غذائیت سے متعلق معاشرتی اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں  نے کہا کہ  بیماریوں کے بہتر مقابلے کے لیے غذائیت پر توجہ ضروری ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے شاہد منہاس نے قبل ازیں موضوع کے مختلف پہلوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔