حکومت کا اپوزیشن کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج میں رخنہ نہ ڈالنے کا اعلان


اسلام آباد: حکومت نے19جنوری کو پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے  احتجاجی مظاہرے میں رخنہ نہ ڈالنے  کا اعلان کردیا.

حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ پارلیمانی انتخابی کمیٹی سے  اپوزیشن  نے راہ فرار اختیار کی اپوزیشن کے پاس دھاندلی کے شواہد تھے تو کمیٹی میں پیش کرتی اب بھی کمیٹی میں ان کی بات سننے کو تیار ہیں، ان کو حلوہ کھانے کی عادت ہے اسلام آباد آنے پر حلوہ پیش کیا جائے گا، پاکستان  کی سیاست بند گلی نہیں بلکہ میدان میں آگئی ہے گلی چوراہوں میں اس سیاست کو لے جانا چاہتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار وزارتی کمیٹی کے ارکان، وفاقی  وزرائ، شیخ رشید احمد، پرویز خٹک، شبلی فراز،فوادچوہدری  اورفروغ نسیم نے  وزارت داخلہ  میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بتایا وزارتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔ پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے سامنے  احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے حکومت  میں اس کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں 560 مدارت ہیں صرف 92رجسٹرڈ ہیں مزید مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت جاری ہے ۔ پی ڈی ایم احتجاج کرنے آرہی ہے ہم رکاوٹ نہیں پیدا کریں گے  کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا جائے گا ہم توقع کرتے ہیں وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔ وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فوادچوھدری نے کہا کہ  انہوں نے  عدلیہ کے خلاف تقاریر کیں،فوج کے خلاف تقاریر کیں، اب الیکشن کمیشن  کے سامنے  آرہے ہیں ، پاکستان میں کسی ادارے کو تو سلامت رہنے دیں۔یہ الیکشن کمیشن تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر بنایا تھا اور الیکشن اس ای سی پی نے تو نہیں کرایا تھا ۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہاکہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام  اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا ، پارلیمانی کمیٹی بنی تھی اس کے باقاعدہ اجلاس ہوئے میری سربراہی میں یہ کمیٹی قائم ہوئی، اپوزیشن سے کہا گیا کہ وہ  انتخابی دھاندلی کے بارے میں شواہد پیش کرے  مگر وہاں کوئی ثبوت نہ دیے جاسکے اور وہاں اپوزیشن نے آنا  چھوڑ دیا، یہ کمیٹی اب بھی موجود ہے ہم کمیٹی میں ان کی بات سننے کو تیار ہیں۔یہ  اتنے سچے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ کوئی غلط کام ہوا ہے تو شواہد پیش کریں یہ صرف ملک میں افراتفری پیدا  کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس  دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ  پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن ) الیکشن کمیشن میں جو ریکارڈ مانگا گیا اسے پیش کریں، جو بھی سفارشات مانگی گئی ہیں پیش کریں وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ احتجاج ہر ایک کا جمہوری حق ہے مگر اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ  بھی موجود ہے ہر جگہ احتجاج نہیں ہوسکتا، اگر ہم واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں  فیصلوں کا احترام بھی کرنا چاہیے اور قانون کے مطابق احتجاج ہونا چاہیے۔ آئین اور قانون کا احترام ضروری ہے۔ مولانا فضل الرحمن حکومت پر الزام نہ لگائیں اسرائیل کے حوالے مولانا ریلی نکالنے جارہے ہیں وہ اسلام کی طرف دیکھیں اسلام آباد ان کے نصیب میں نہیں ہے۔ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ  پاکستان اسرائیل کو  کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا۔  مولانا ہم پر اس طرح کے الزامات  عائد نہ کریں۔

شیخ رشید نے کہاکہ نور الحق قادری مدارس کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ہم وزیراعظم کی ہدایت پر  مدارس سے رابطے میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ پاکستان کی سیاست  کو پی ڈی ایم بند گلی میں لے جانا چاہتی ہے، پاکستان کی سیاست  کو ہم میدان میں لے جانا چاہتے ہیں چوک اورچوراہوں میں لے جانا چاہتے ہیں وزیرداخلہ نے کہاکہ ہم نے جے یو آئی کی کسی تنظیم پر پابندی لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ابھی ہمیں 15 دن ہوئے  ہیں آئے ہوئے  ہمیں وقت دیں اسلام آباد پولیس ٹھیک ہو جائے گی۔ ہمارے اعصاب مضبوط ہیں وزیراعظم عمران خان کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ایک سوال کے جواب میں  شبلی فراز نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کو حلوہ کھانے کی عادت ہے اسلام آباد  آئیں گے ہم انہیں حلوہ پیش کریں گے۔  یہ حلوہ کھانے کے عادی ہیں۔