مریم نواز شریف کا سیاست میں مستقبل روشن ہے، چوہدری محمد شفیق انور


صادق آباد(محمد زاہد شریف چوہدری )پاکستان مسلم لیگ(ن) بہاولپور ڈویژن کے سینئر نائب صدر، سابق صوبائی وزیر اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری محمد شفیق انور نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف  (پی ٹی آئی)کی طرح نا اہل اور نالائق حکومت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی۔ ایک دشمن اور ایک ایسی نا اہل حکومت کے خلاف جو ملک کے خلاف کام کررہی ہے جس نے ملک کا پہیہ روکا ہوا ہے اس کو ہٹانے کیلئے پاکستان ڈ یموکریٹک مووومنٹ ( پی ڈی ایم) بنی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا تو آج شہباز شریف وزیراعظم ہوتے ۔مریم نواز شریف کا سیاست میں مستقبل روشن ہے۔

ان خیالات کا اظہار چوہدری محمد شفیق انور نے ”صباح نیوز” سے خصوصی انٹرویو میں کیا ۔ چوہدری محمد شفیق کا کہنا تھا کہ 1999 کے بعد بھی میں نے پارٹی نہیں چھوڑی اور اپنے قدموں پر کھڑا رہا اور 2002 میں پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوا جب 2018ء میں ن لیگ زیرا عتاب آئی اور پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ نے( ن) لیگ کو تباہ کرنے کیلئے جس طرح کوشش کی اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمام حربے ناکام کیے اور 2018 میں، میں دوبارہ منتخب ہوا آج بھی (ن )لیگ کے ساتھ دبنگ طریقہ سے کھڑا ہوں کھڑارہوں گا کو ئی  طاقت مجھے اپنے قدموں سے نہیں ہٹا سکتی ۔ پارٹی چھوڑنے کیلئے بڑی مرتبہ دبائو ڈالا گیا مگر میں نے دیکھا ہی نہیں کون دبائو ڈال رہا ہے اور کون دبائو نہیں ڈال رہا ،میں نے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کو کبھی قریب بھی نہیں آنے دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت آتی ہے تو پہلے دو سال میں منصوبے شروع کیے جاتے ہیں اور ترقیاتی کام شروع کیے جاتے ہیں اور آخری دو اڑھائی سال میں تیزی لاکر کاموں کو مکمل کیا جاتا ہے ۔ پی ٹی آئی واحد بدقسمت جماعت ہے جس نے دو ،اڑھائی سال میں کوئی منصوبہ شروع   ہی نہیں کیا، مکمل کیا کرنا ہے، حکومت کی نالائقی اور نا اہلی کی وجہ سے تعلیمی شعبہ کے تمام فنڈز بند ہوچکے ہیں اور ہائرایجوکیشن اور یونیورسٹیاں نجی شعبہ بن چکی ہیں ۔ ایک سمسٹر کی 10ہزار فیس تھی وہ 70ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔ محکمہ صحت ایک قسم کا نجی ادارہ بن چکا ہے ۔ مریضوں کو نہ ادویات مل رہی ہیں نہ کوئی دوسری سہولیات مل رہی ہیں۔ تعلیم، صحت اور امن و امان بنیادی چیزیں ہوتی ہیں اور یہاں چور اور ڈاکو کا راج ہے۔ پی ٹی آئی والے لوگ صرف اقتدار کی خاطر باتیں کررہے ہیں کام کوئی نہیں کررہے نہ اسمبلیوں میں کارکردگی ہے اور نہ کوئی دوسری کارکردگی ہے ۔ پی ٹی آئی کی طرح کی نااہل اور نالائق حکومت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی ۔ حکومتی وزراء کی اسمبلی میں بھی کوئی کارکردگی نہیں، رشوت آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت سب ادارے کرپٹ ہوچکے ہیں، کوئی ترقیاتی کام نہیں ہورہا ہمارا شہر کھنڈر بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی کارکردگی کی بنیاد پر اور ان کی نا اہلی کی بنیاد پر اور جس طریقہ سے یہ سیاستدانوں پر ظلم کررہے ہیں جس طریقہ سے نیب کو استعمال کررہے ہیں آنے والا وقت بتائے گا، ہم ان کو ایسی جگہ پہنچائیں گے کہ ان میں دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہیں ہوگی ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتیں مارشل لاء کی شکل اختیار کرلیں اور جب حکومتی ظلم اور بربریت کی طرف چل پڑیں ، کوئی پارٹی نہیں جس کے خلاف یہ کارروائی نہیں کررہے نیب کو استعمال کررہے ہیں۔ اینٹی کرپشن کو استعمال کررہے ہیں ۔ جب نیب کے خلاف اٹھے ہیں اب اینٹی کرپشن شروع کرلی۔ ظلم کے خلا ف باقی جتنی طاقتیں ہوتی ہیں وہ اکٹھی ہوتی ہیں ،پی ڈی ایم حکومت کو اس کی کارکردگی کا نقشہ دکھاتی ہے کہ اس کی کارکردگی کیا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کا نظریہ، سوچ اور منشور الگ ہے ۔ ایک دشمن اور ایک ایسی نا اہل حکومت کے خلاف جو ملک کے خلاف کام کررہی ہے جس نے ملک کا پہیہ روکا ہوا ہے اس کو ہٹانے کیلئے پی ڈی ایم بنی ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پی ڈی ایم ایک پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اپنے منشور اور پلیٹ فارم سے الگ الگ انتخابات لڑیں ۔ پی ڈی ایم ایک مشن اور مقصد کے تحت اکٹھی ہوئی ہے ان کی ہر کسی کی منزل اپنی اپنی ہے ۔

ایک سوال پر چوہدری شفیق کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ تندرست ہے تاہم میری اپنی اطلاع کے مطابق نواز شریف کو دل کا شدید عارضہ لاحق ہے لہذا وہ زیادہ ٹینشن برداشت نہیں کرسکتے ۔ جبکہ میرے اپنے خیال کے مطابق حکومت نے خود ہی نواز شریف کو باہر بھیجا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کی جبر کی حکومت میں وہ واپس آئیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے مریم نواز شریف کی اتنی تربیت کردی ہے کہ لوگ مریم نواز کو نواز شریف کی جگہ پر ہی سمجھ رہے ہیں اور اسی لحاظ سے لوگ جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ مریم نواز کا سیاست میں مستقبل روشن ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ شریف خاندان کے اندر اختلاف ہے تاہم میں اندر کی بات جانتا ہوں شریف خاندان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کی کمرے کے اندر سوچ الگ ہو سکتی ہے تاہم وہ کمرے کے باہر نہیں ہوسکتی۔ ووٹ بینک نواز شریف کا ہے ایڈمنسٹریٹر میاں محمد شہباز شریف ہے، شہباز شریف سے بڑا ایڈمنسٹریٹر اور کام کرنے والا کوئی آدمی نہیں وہ دن رات کام کرنے والے اور محنتی ہیں۔ شریف خاندان کبھی آپس میں الگ نہیں ہوگا یہ ہمیشہ اکٹھے رہیں گے اگر نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلاف ہوتا تو آج شہباز شریف وزیراعظم ہوتے دونوں اندر سے ایک ہیں اور دونوں کا ملک کی خدمت کرنے کی سوچ اور جذبہ ایک ہے۔