رشوت ختم ہوئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا،عمران خان


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک ملک سے رشوت کا نظام ختم نہیں ہوتا سب سے زیادہ  کمیشن سڑکوں پر بنتی تھی ،نئے نظام کے بعد سڑکوں کے بنانے میں بھی شفافیت آئے گی اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے سسٹم کو مانیٹر کیا جاسکے گا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں میں جس قدر انسانی مداخلت کم ہوگی اسی قدر ادارے ترقی کریں گے ۔ این ایچ اے کے ٹھیکوں  میں ماضی میں بے پناہ کرپشن ہوئی ۔ ماڈرن ٹیکنالوجی سے کرپشن کا نظام ختم ہوگا ایف بی آر کو بھی جولائی تک ڈیجیٹلائزیشن کا وقت دیا گیا ہے اس کے علاوہ  باقی تمام وزارتوں کو بھی وقت دیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام تمام اداروں کو ڈیجیٹلائز کریں تاکہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہوسکے ۔

اسلام آباد میں این ایچ اے کے تحت ری بڈنگ ، ای بلنگ، اور جی آئی ایس  میپنگ کے نظام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ این ایچ اے میں شفافیت کا کلچر متعارف کرانے پر وفاقی وزیر مراد سعید سمیت پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ مستقبل ڈیجیٹل نظام کا ہے انسانی عمل دخل کو کم سے کم رکھنا ہوگا۔ماڈرن  ٹیکنالوجی سے نئے منصوبوں میں شفافیت سمیت تیزی آئے گی۔ این ایچ اے کے ٹھیکوں میں ماضی میں بہت کرپشن ہوئی تھی۔ کرپشن سے سب سے زیادہ نقصان ملک کا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن  ملک کو تباہ کردیتی ہے۔ 20 سال قبل شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے وقت سارا نظام آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آن لائن نظام کرنے سے کرپشن کا راستہ ختم کردیا ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا  جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے ۔ تبدیلی سوئچ آنے کرنے سے نہیں آتی اس کیلئے جہد مسلسل کرنی پڑتی ہے۔ ہم بھی  دنیا میں سینہ تان کر چلنا چاہتے ہیں اور دنیا میں اپنے  ملک کی عزت چاہتے ہیں ۔ عزت ہمیشہ خودار قوم کو ملتی ہے جو لوگ پرانے نظام سے فائدہ اٹھارہے ہیں وہ تبدیلی اور اصلاحات نہیں چاہتے ۔ رشوت اور کرپشن والے ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ جب تک لوگ خود اپنے آ پکو تبدیل نہیں کریں گے اصل تبدیلی نہیں آسکتی۔ تبدیلی  کے راستے میں ”سٹیٹس کو” کے ساتھ چپکے لوگ رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں اسلام دنیا میں مسلمانوں کے اعلیٰ کردار کے باعث پھیلا ماضی میں حکمرانوں نے کرپشن سے بے پناہ پیسہ بنایا۔ برطانوی فرم نے بھی تصدیق کی کہ ماضی میں پاکستانی وزیراعظم اور وزراء کرپشن  میں ملوث رہے جہاں قیادت کرپٹ ہو جائے تو معاشرے میں بدعنوانی کو برائی نہیں سمجھا جاتا براڈ شیٹ نے بتایا کہ سعودی عرب سے ایک پاکستانی شخص نے برطانوی بنک میں ایک  ارب ڈالر بجھوائے یہاں کے حکمران تو بہت امیر ہیں لیکن ملک غریب ہے ۔ ملک قرضے پر گزارا کررہا ہے مگر حکمران لندن میں بڑے مہنگے محلوں میں رہ رہے ہیں.

عمران خان نے کہا ہے کہ مغرب کے حکمرانوں کا رہن سہن  دیکھیں اور یہاں مقروض ملک کے حکمرانوں کا رہن سہن  دیکھیں تو لگتا ہے یہاں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں جب یہاں کے حکمران باہر جاتے تھے تو مہنگے ترین ہوٹلوں میں  رہتے تھے مدینہ کی ریاست  کے سربراہ سادگی میں رہتے تھے کسی نے کوئی محلات نہیں بنائے  وہ ریاست کا پیسہ غریبوں پر خرچ کرتے تھے۔ نبیۖ نے فلاحی ریاست بنائی ۔

عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب تھا مگر بدقسمتی  سے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ڈیجیٹلائزیشن نظام سے پیسہ بنانا لوگوں کیلئے  مشکل ہو جائے گا اس سے شفافیت آئے گی۔ ایف بی آر کو ڈیجیٹلائزیشن کرنے سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ این ایچ اے کی طرح ایف بی آر کو بھی مکمل طورپر ڈیجیٹلائز کررہے ہیں رواں سال  جولائی تک ایف بی آر نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کرنے کی واضح ہدایت کردی ہے۔