لاپتا افرادکی کی عدم بازیابی پر عدالت کا حکومت پر برہمی کا اظہار

فائل فوٹو

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت لاپتا افرادکی کی عدم بازیابی پر عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ عوام کے جان اور مال کی تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر ہے، بندے اٹھا کر غائب کرتے رہنا کیا قانون کے مطابق ہے ؟ کوئی شہری لاپتا ہوا تو اس علاقے کے ایس ایس پی کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، برسوں سے شہری لاپتا ہیں اور تفتیش میں کسی قسم کی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔

عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں، پولیس کی تفتیش محض خانہ پوری کے سوا کچھ نہیں ہوتی، دو بھائی 2009 سے لاپتا ہیں اب تک سراغ نہیں لگایا گیا۔

تفتیشی افسر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ محمد الیاس اور امین اپنی مرضی سے خیبر پختونخوا چلے گئے۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ کیسی بات کررہے ہیں 11 سال سے گمشدگی کا کیس زیر سماعت ہے، گمشدہ شہری کو تلاش کرنا پولیس کا کام ہے، کیا سندھ پولیس لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے کے پی حکومت اور پولیس سے رابطہ نہیں کرسکتی؟۔

عدالت نے آئی جی سندھ کو لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے لاپتا شہری عمر فاروق، احسان اور دیگر کی بازیابی کیلئیخصوصی اقدامات کا حکم دے دیا۔ عدالت نے لاپتا افراد کے معاملے پر جے آئی ٹی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے 11 فروری کو  پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔