پاکستان کو خودمختار ریاست کے طور پر دنیا میں متعارف کرائیں گے، پی ڈی ایم


لورالائی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ پی ڈی ایم پاکستان کو امریکی کالونی کے بجائے آزاد اور خود مختارریاست کے طور پر دنیا میں متعارف کرائیں گے۔

پاکستان میں تمام مسائل کا حل آئین پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد میں ہی مضمر ہے ،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات حاصل ہے ہم قطعاََ صوبوں کے اختیارات مرکز کو دینے کیلئے تیار نہیں ،بھارت ہمارا دشمن ،افغانستان ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں ،چین پاکستان سے ناراض ہے پاکستان دن بدن تنہا ہوتاجارہاہے ریاست مدینہ بنانے والے ایران اور چین کی نظام کے بعد اسرائیل جیسا نظام لانے کا کہیں گے ،دنیا میں تین نمونے ایک ٹرمپ دوسرا مودی اور تیسرا ہمارا والا ہے اور پوری دنیا ان کو سمجھ نہیں پارہی ،گلگت کو کشمیر سے الگ کرکے صوبہ بنایاجارہاہے لیکن ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے قبائلی علاقہ جات کو حق نہیں دیاکہ وہ کیاچاہتے ہیں لورالائی کے جلسہ میں عوام کی فقیدالمثال شرکت سے واضح کہ ہے کہ عوام نے دھاندلی کی پیدوارحکومت کومستردکردیاہے ،فوج ہمیں عزیز لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان ہمیں عزیز ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پی ڈی ایم کے زیراہتمام لورالائی (بوری ) میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے ،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ،پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی نائب صدر سینیٹرسرداریعقوب خان ناصر، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ملک عبدالوالی کاکڑ،نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹرمیر کبیراحمد محمد شہی ،پاکستان پیپلزپارٹی  کے صوبائی صدر حاجی میر علی مدد جتک ،مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولاناعصمت اللہ سالم ودیگر خطاب کیا۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ وپی ڈی ایم کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ لورالائی میں بڑی اجتماع میں عوام کی بے مثال شرکت اس بات کااعلان ہے کہ بلوچستان کی عوام دھاندلی کی پیدوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں ،ووٹ چوری کرکے آنے والی حکومت کو مزید قوم پر مسلط ہونے کا حق حاصل نہیں ،ہم غصب کیاہوا یہ حق لیکر عوام کی مرضی کی حکومت قائم کریں گے ،ہماری یہ جنگ پاکستان میں جمہوری فضائوں کی بحالی ،آئین کی بالادستی ،پارلیمنٹ کی خودمختاری قانون کی عملداری کیلئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج پوری قوم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے ،پی ڈی ایم نے پورے ملک میں جلسے کئے ملک کے دوردراز علاقوں میں عوامی سمندر جلسوں میں امڈ آتا ہے یہ موجیں مارتا ہوا سمندر ایک نظریہ رکھتاہے اورملک کیلئے ایک مطالبہ کرتاہے ،یا درکھیں کہ عمران خان کا جاناطے ہیں ،عمران خان غیر متعلقہ شخص ہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کا مالک یہاں کی عوام یا طاقت ور ادارے ہیں ہمیں فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے ،جعلی حکومت اور جعلی وزیراعظم کی کوئی عقل ہے اور نہ ہی نظریہ ،ریاست مدینہ بنانے والے ایران اور چین کی نظام کے بعد اسرائیل جیسا نظام لانے کا کہیں گے ،دنیا میں تین نمونے ایک ٹرمپ دوسرا مودی اور تیسرا ہمارا والا ہے اور پوری دنیا ان کو سمجھ نہیں پارہی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان کہتا تھا کہ مودی کی کامیابی کی دعا کرنے والے عمران خان سے مودی نے کشمیر ہی چھین لیا اب حکمرانوں کا حق نہیں کہ وہ کشمیر کی بات کرے ،گلگت کو کشمیر سے الگ کرکے صوبہ بنایاجارہاہے لیکن ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے قبائلی علاقہ جات کو حق نہیں دیاکہ وہ کیاچاہتے ہیں ،ہم یہاں پر آج آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں ،ہمارے اکابرین نے آزادی کی جنگ میں انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پرمجبور کیا ،ہم پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دیںگے بلکہ آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر دنیا میں متعارف کرائیں گے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ملک ہمارا ہے ہمیں اپنے ملک کاسوچنا ہے حکمرانوں میں خوداعتمادی نام کی کوئی شے نہیں ،اگر انہیں کالونی نظر نہیں توکبھی ایران ،کبھی چین کے نظام کی بات نہیں کرتے ،قوم کو بے وقوف بنانا زورآور قوتوں کی پالیسی اور فلسفہ ہے ،آج دنیامیں پاکستان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں پڑوسی بھی ہاتھ اٹھا چکے ہیں ،بھارت ہمارا دشمن لیکن آج افغانستان ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں ،چین پاکستان سے ناراض ہے ،بھارت اور چین کی معیشت ترقی ،افغانستان اور ایران کی معیشت ہم سے بہتر چھوٹے ممالک ترقی کررہے ہیں لیکن خطے میں ایک پاکستان جس کی معیشت ڈوب رہی ہے ،پی ڈی ایم اگر پریشان ہے تو اس لئے کہ اس کمبخت نے ملک کا کباڑہ کردیاہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ غریب بازار میں اشیائے ضروریہ خریدنے کے قابل نہیں رہا اس کی قوت خرید جواب دے چکی ،ہماری مائیں اپنے بچوں کو بازار میں لاکر فروخت کانعرہ لگاتی ہے والدین بچوں کو نہروں میں پھینک رہے ہیں کہ ان کو پالنے کیلئے ذریعہ معاش نہیں ،اس قسم کے لوگوں نے ملک کو تباہ کردیا لیکن اگرادارے ان کے پشت پر کھڑے ہوںگے تو ہم ان اداروںکی بالادستی کوتسلیم نہیں کریں گے ،بالادستی ہوگی تو صرف پاکستانی قوم کی ہوگی ،کہاجارہاہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیاجائے مسئلہ اسرائیل کے ساتھ ہے ہی نہیں بنیادی مسئلہ تو فلسطین کا ہے ،اسلامی دنیا ،اسلامی حکمرانی اور پاکستانی قوم کوبتاناچاہتاہوں کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے پہلے فلسطین کو تسلیم کیاجائے پھر اسرائیل کی بھی بات کرلیں گے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلاعام خلاف ورزی کی جارہی ہے ،قوم کو محکوم سمجھنے کی بجائے اپنا سمجھاجائے یہ مظلوم قوم ہے ،قبائلی علاقوں میں معدنیات ہو یا بلوچستان کے وسائل ہو اب تو سندھ اور بلوچستان کے جزائر ،سرائیکی علاقے میں معدنیات پر قبضہ کیاجارہاہے اور قوم کو خیرات مانگنے پرمجبورکیاجارہاہے ،آئین میں ہمارے حقوق واضح ہے ،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات حاصل ہے ہم قطعاََ صوبوں کے اختیارات مرکز کو دینے کیلئے تیار نہیں۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ وپی ڈی ایم کے مرکزی نائب صدر محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہم آج یہاں اکھٹے ہوئے ہیں لیکن ہمیں کسی کو کوئی گالی نہیں دینی ہمیں ایک دوسرے کی قدر کرناہوگی جب ہم تکبیر کا نعرہ لگاتے ہیں تو اس کا مطلب کہ ہم دنیا میں ایک طاقت ور کو مانتے ہیں اور وہ صرف اللہ ہے ،ہمیں عمران خان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بات یہ ہے کہ جب سے پاکستان بنا ہے اس وقت سے لیکر یہ ملک خرابی کی طرف چل پڑا ہے اور آج یہ حالت ہے کہ عوام کو دووقت روٹی میسر نہیں ،امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے ،پی ڈی ایم کی تحریک پاکستانی قوم اور اداروں کو یہ فیصلہ کرناہوگا کہ یہ ادارے ملک کیلئے ہے یا یہ ملک ادارے کیلئے ہے ،فوج اگر سیاست میں مداخلت کی بجائے اپنے حدود میں رہ کر کام کریگی تو ہم لکھ کردیں گے کہ یہ ملک ترقی کرے گا ۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ حلف وعدہ ،قرآن ہے ہمارے آئین میں فوج کیلئے حلف موجود ہے فوج ہمیں عزیز ہے لیکن پاکستان ہمیں سب سے بڑھ کر عزیز ہے جہاں پشتون،بلو چ،پنجابی ،سندھی ،سرائیکی اپنی زمین پر آباد ہے جب پاکستان نہیں تھا تو یہاں بلوچ پشتون ،پنجابی اقوام پہلے سے آباد تھے ،ہم کسی کے غلام ہیں نہ ہی ہمیں کسی نے فتح کیاہے ،اگر کوئی پشتون ،بلوچ ،سندھی اور دیگر کے معدنیات کو لوٹیں گے اور ہم خاموش رہیں گے تو یہ خواب فرعون نے بھی دیکھے تھے ،ہمیں اللہ کی بادشاہت قبول لیکن کسی کی جانب سے ہمیں غلامانہ زندگی قطعاََ قبول نہیں اگر کوئی غلامانہ زندگی گزارنا چاہیے گا تو اس پر لعنت ہو ۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہمیں انقلاب کی تیاری کرناہوگی جس کی معنی کہ غریب کو روٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ،انہوں نے کہاکہ ایسا ملک بنائیںگے جہاں ادارے اپنی حدود تک محدود ہو ،آمریت نے 30سال حکمرانی کی آج بھارت بالادست ہے ،ایٹم بم کے استعمال کرنے والے وزراء پاگل ہیں ،دنیا نہ بھارت کو ایٹم بم کی اجازت دے گی اور نہ پاکستان کو ،سیاست میں مداخلت نہ کی جائے ،اپیل ہے کہ بوری کے لوگ غیرت مند ہے یہاں جو قبائل آباد ہے وہ علاقے کے امن وامان کو خراب کرنے کی بجائے وطن میں امن کیلئے جدوجہد کرے ،کسی اورکیلئے سیاسی کارکنوں اور اپنے قبائل کے سامنے مسلح ہوکر کھڑے ہونے سے اپنا نقصان کریں گے ہم یہاں جمہوری پاکستان بنائیں گے جہاں حکومت ووٹ سے منتخب ہوکر داخلہ وخارجہ پالیسی بنائیں گے ،آج دنیا میں پاکستان تنہا ہے ،تین کیٹگریز ہیں پاکستان آج دوسرے کیٹگری میں ہے پاکستان پر الزامات ہے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے چھٹکارا دلائیں گے ۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ آج ہمارا وطن خلفشار کاشکار ہے اس  کے بنیادی وجوہات کیاہے ،قرآن ہرمسلمان اور عالم دین کو حکم دیتاہے کہ وہ دو مسلمانوں کے درمیان تصفیہ کرائیں ،آج افغانستان کی حالت زار کیسی ہے ،آئین کے تحت پاکستان کا ہر شہری چاہے وہ ہندو ،سکھ یا مسلمان آزادی حاصل ہے ،علی وزیر اور پی ٹی ایم کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہے پی ڈی ایم پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ ہے ،باجوڑ سے لیکر خیبر تک پشتونوں کا خون بہایا گیا ،بلوچ سندھیوں کا خون بہایا گیاہے وزیرستان میں 13سو جرگے ممبران کو گولیاں مار کر قتل کیاگیاہے قتل وغارت گیری کے بعد ہم سے ڈھول کی تاپ پر ناچنے کی امید کرنا بغیرتوں کی علامت ہوگی ،تمام مسائل کا حل آئین پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد میں ہی مضمر ہے ،اس وطن میں دنیا جہاں کے معدنیات ہے لیکن آج ہم بھوک سے مرر ہے ہیں ۔