نیب ایگزیکٹو بورڈ نے 2 ریفرنسز، 7 انکوائریز، 5 انوسٹی گیشنز کی منظوری دیدی


اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیر لوکل گورنمنٹ سندھ جام خان شورو اور ڈائریکٹربورڈ آف انویسٹمنٹ اسلام آباد عادل کریم کے خَلاف2 ریفرنسز اور اویس مظفر ٹپی سمیت دیگر کے خلاف انکوائریز اور 5 انوسٹی گیشنز شروع کرنے کی منظوری دے دی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حسین اصغر ڈپٹی چئیرمین نیب، سید اصغر حیدر،پراسیکیوٹر جنرل اکا نٹیبلٹی نیب،ظاہر شاہ،ڈی جی آپریشن نیب اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 02ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔ جن کی تفصیل اس طرح سے ہیں،1۔   قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں جام خان شورو رکن صوبائی اسمبلی سندھ /سابق وزیر لوکل گورنمنٹ حکومت سندھ،ماسٹر کران خان شورو،کاشف شورو،چئیرمین ٹان کمیٹی قاسم آباد حیدر آباد،سجاد حیدر شاہ،ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو،شاہ نواز سومرو اسسٹنٹ کمشنر قاسم آباد حیدر آباد،اختر علی شیخ،مخیار کار،قاسم آباد حیدر آباد،علی ذولفقار میمن،مخیار کار قاسم آباد حیدر آباد،امتیار سولنگی،سپروائزنگ ٹپیدار، دہ جام شورو،بچل میر بہار،ٹپیدار،دہ جام شورو،پیر بخش جتوئی ٹپیدار دہ جام شورو،انوار باتی لینڈریکارڈ آفیسر،سیٹلمنٹ سروے ایند لینڈ ریکارڈ آفیسر حیدر آباد، خداداد مری انسپیکٹر ریونیو اینڈ سٹی سروے سیٹلمنٹ سروے ایند لینڈ ریکارڈ آفیسر حیدر آباد،طاہر علی بھمبروریونیو سر وئیر حیدر آباد،بخت علی ویگیو سروے ٹپیدارسیٹلمنٹ سروے ایند لینڈ ریکارڈ آفیسر حیدر آباد،ذیشان قریشی سروے ٹپیدار سیٹلمنٹ سروے ایند لینڈ ریکارڈ آفیسر حیدر آباد،لیار لباری ریونیو سروئیر سیٹلمنٹ سروے ایند لینڈ ریکارڈ آفیسر حیدر آباد،شاہد پرویز میمن،ایڈیشنل ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی سی حیدر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی،محمد بچل راہوتو،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر قاسم آباد حیدر آبادکے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔

ملزمان پر غیر قانونی طور پر اختیارت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دہ جام شورو قاسم آباد سندھ میں سرکاری اراضی پر قبضہ کر کے ذاتی استعمال میں لانے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانہ کو تقریبا5ارب روپے کا نقصان پہنچا۔2۔  قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں عادل کریم ڈپٹی ڈائریکٹر بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد،محمد ایوب ڈائریکٹر بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد،محمد مسلم سابق ڈائریکٹر بورڈ آف انویسٹمنٹ اسلام آباد،فحدعلی چوہدری ڈائریکٹر بورڈ ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کسٹمز اسلام آباد،فہدعلی چوہدری ڈائریکٹر بورڈ ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کسٹمز اسلام آباد،نعیم اعجاز قریشی ڈ ائریکٹر ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کسٹمز اسلام آباد،محمود عالم سابق ممبر انڈائریکٹ ٹیکسز پالیسی ایف بی آر،سکندر اسلم سابق کمشنر انلینڈ ریونیو ریجنل ٹیکس آفس کراچی اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔

ملزمان نے اختیارات کاناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کوتقریبا 417.409ملین روپے کانقصان پہنچایا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں  07انکوائریز کی منظوری دی گئی۔جن میں فدا خان،آفتاب خان(فرنٹ مین)،اویس مظفرٹپی اور دیگر، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے افسران/اہلکاران اور دیگر،قادر بخش اور دیگر، ڈاکٹر احمد ندیم اکبر سابق رجسٹرار پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور دیگر،محمد اکبر بلوچ پراجیکٹ ڈائریکٹر سولر سسٹم فار واٹر سپلائی اینڈ ڈرینیج سکیمز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ اور دیگر،شعیب احمد گولا سینئرممبر بورڈ آف ریونیو کوئٹہ،محمد رفیق بنبھان اور دیگر کے خلاف انکوائریز کی منظوری شامل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (05) انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔ جن میں سپیشل ا ینیشی ایٹو ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران،میسرز پاک اوسزانڈسٹریز پرئیویٹ لمیٹڈ اور دیگر،اسلم شاہ چئیرمین پی ایم ایس (PMS)،جی آئی ڈی اے (GIEDA)، فرید احمد سابق منیجنگ ڈائریکٹر جی آئی ڈی اے،الاٹمنٹ کمیٹی کے اراکین،سابق پی ڈیز اینڈ ایم ڈیز جی آئی /جی آئی ای ڈی اے اور دیگر،فشریز ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ اور دیگر،سہیل انور سیال سابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ،علی انور اور دیگراور بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری شامل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں بلوچستان حکومت کے لئے MI-171E ہیلی کاپٹر کی پروکیورمنٹ کمیٹی اور دیگر کے خلاف انکوائری اب تک کے عدم ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین  جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے  ہیں۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انوسٹی گیشن آفیسرز اورپراسیکوٹرز پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں نیب مقدمات کی پیروی کریں جہاں قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ نیب میں آنے والے ہر شخص کی عزت نفس کا مکمل خیال رکھا جائے۔اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی بر داشت نہیں کی جائے گی۔چئیرمین نیب نے ہدایت کی کہ جعلی ہاسنگ سوسائٹیزاور کووآپریٹو ہاسنگ سوسائٹیز کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ بد عنوان عناصر سے متاثرین کو لوٹی گئی رقوم بر آمد کر کے بر وقت حقداران کو قانون کے مطابق واپس کی جا سکیں۔