امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد منظور


واشنگٹن:امریکی ایوان نمائندگان(کانگریس)نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک کے آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت ہٹانے کے لیے قرارداد منظور کرلی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے چند ریپبلکنز بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل گئے، امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس)میں منظور کی گئی قرارداد میں نائب صدر کو کہا گیا ہے کہ وہ آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیں۔ دوسری جانب نائب صدر مائیک پینس نے ٹرمپ کو ہٹانے کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔

کانگریس میں اس حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری سے چند گھنٹوں قبل اسپیکر نینسی پلوسی کو لکھے گئے خط میں مائیک پینس نے کہا کہ امریکی صدر کو 25ویں آئینی ترمیم سے ہٹانے سے غلط روایات جنم لیں گی، ٹرمپ کی صدارتی مدت کے اختتام میں صرف 8 دن باقی ہیں، ایسے وقت میں اس طرح کی کارروائی کسی طرح ہمارے قومی مفاد اور آئین سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ جس آئینی ترمیم کے تحت کارروائی کی بات کی جارہی ہے وہ سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مواخذے کی کوشش مضحکہ خیز اور انتقامی کارروائی ہے، کیپٹل ہل ہنگاموں سے پہلے ان کی تقاریر متوازن تھیں، یہ وقت پرامن رہنے اور جذبات پر قابو رکھنے کا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ 25ویں ترمیم سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے اس وقت امریکی پارلیمنٹ کیپٹل ہل پر دھاوا بولا تھا جب جو بائیڈن کو ملنے والے الیکٹورل ووٹس کی توثیق کی جارہی تھی۔ واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین نے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایمر جنسی نافذکردی

امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت اگر صدر مملکت کسی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو نائب صدر سمیت کابینہ اکثریت کے تحت صدر کو ہتانے کا اختیار رکھتی ہے اور اس کے بعد نائب صدر ملک کے صدر کی حیثیت سے اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔