عذیر بلوچ قتل کے ایک اور مقدمہ میں بری


کراچی: ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے شہری کے اغوائ   برائے قتل کیس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف قتل کے ایک اور مقدمہ کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے عذیر بلوچ کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا۔

 جوڈیشل کمپلیکس کراچی میں قائم  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات میں ملزم عذیر بلوچ عدالت میں پیش کیا گیا۔

سرکاری وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہری نوشاد کو چاکیوارہ کے علاقے سے اغوائ  کیا، مقتول کو ایک کمرے میں رکھا جہاں عزیر بلوچ ودیگر ملزمان موجود تھے ، عزیر بلوچ نے حکم دیا کہ اسے قتل کردو۔

عزید بلوچ کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ قتل کے مقدمے کا کوئی چشم دید گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا ،کیس میں عزیر بلوچ سمیت سات ملزمان کو نامزد کیا گیا کس نے قتل کیا استغاثہ اس حوالے سے خاموش ہے ، نامعلوم شہری کی لاش پولیس کو ملی مقتول کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی ، قتل کی واردات 13مارچ 2013کو کلری کے علاقے میں ہوئی مقدمہ 17مارچ کو درج کیا ، پولیس نے سیاسی بنیاد پر میرے موکل کو نامزد کیا جو اس نے جرم کیا ہی نہیں ، پولیس اہلکار کے بیان پر میرے موکل کو نامزد کیا گیا جو موقع کا گواہ نہیں ہے ،گواہ پولیس اہلکار نے تفتیشی افسر کو بیان دیا لیکن عدالت میں کوئی بیان نہیں دیا۔

بعد ازاں عدالت نے شہری کے اغوائ   برائے قتل کیس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف قتل کے مقدمہ کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے عذیر بلوچ کو عدم شواہد کی بنائ  پر بری کردیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے  عذیر بلوچ کے دوران عذیر بلوچ چار مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔