منی لانڈرنگ کیس ‘شہباز شریف کا ٹیکس ریکارڈ طلب


لاہور: لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ(ن )کے صدر اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے ٹیکس آڈٹ ریکارڈ کی دستاویزات طلب کر لیں۔

میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے ایف بی آر کو 2014 کا ٹیکس ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت نے شہباز شریف سمیت دیگر ملزما ن کے خلاف سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے ٹیکس کا آڈیٹر ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

شہباز شریف کے وکیل نے باقاعدہ تحریری درخواست عدالت میں دائر کر دی جس پر عدالت نے ایف بی آر کو شہباز شریف کا 2014 کا ٹیکس ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے جج جواد الحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ آج پھر اتنے لوگ لے کر آگئے؟عدالت نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا آپ کچھ کہنا چاہ رہے ہیں؟شہباز شریف نے جواب دیا کہ جی میڈیکل بورڈ سے متعلق کچھ کہوں گا، مجھے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں چنیوٹ مائنز اینڈ منرلز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں نے جو 600 ارب روپے بچائے وہ اہمیت رکھتے ہیں۔

احتساب عدالت لاہور نے شہباز شریف سے کہا کہ یہ کیس میرے پاس نہیں ہے، جب موقع آئے تو آپ متعلقہ عدالت میں بیان کے لیے پیش ہو جائیے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ میں نے غریب عوام کا پیسہ بچایا ہے، نیب تو میرا شکریہ ادا کرے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیشی کے سبب احتساب عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے۔