جعلی مقابلے میں تین کشمیریوں کے قتل پر بھارتی فوجی افسر کاکورٹ مارشل ہوگا

فائل فوٹو

سری نگر:جعلی مقابلے میں تین کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے والے بھارتی فوجی افسرکے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوگی۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق فوجی حکام نے بتایا ہے کہ کیپٹن بھوپیندر سنگھ اس وقت فوج کی حراست میں ہیں اور فوج کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ مذکورہ کیس میں تحقیقات مکمل کر لی ہے۔فوج نے لواحقین کو یقین دلایا ہے کہ واقعے میں ملوث فوجی افسر اور ماتحت اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے ۔

تین کشمیری نوجوانوں کے قتل کا مقدمہ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شوپیاں کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔مقبوضہ کشمیر پولیس نے مقدمے کی چارج شیٹ بھی عدالت میں پیش کر دی ہے ، چارج شیٹ کے مطابق کیپٹن بھوپندر سنگھ نے اپنی ٹیم صوبیدار گارو رام ، لانس نائک روی کمار ، سپاہی اشونی کمار کے ہمراہ راجوری ضلع کے تین نوجوان امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے امشی پورہ قصبے میں18 جولائی2020 کوقتل کر کے عسکریت پسند قرار دیا تھا۔ یہ کارروائی بھارتی فوجی افسر نے 20 لاکھ روپے انعام کے لیے کی تھی۔

کے پی آئی کے مطابق یہ نوجوان مزدوری کے لیے راجوری سے شوپیاں پہنچے تھے ۔ وی او اے کے مطابق فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ کیپٹن بھوپیندر سنگھ کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے۔اس سے پہلے بھارتی فوج نے یہ اعتراف کیا تھا کہ امشی پورہ میں کیے گئے آپریشن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت نے جموں وکشمیر کے لیے غذائی اجناس میں30 فیصد کمی کردی

اس ایکٹ کے تحت فوج کو جموں و کشمیر میں شورش اور آزادی کے لیے چلائی جانے والی مسلح جدوجہد کو دبانے کے لیے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا ہے کہ “ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے میں پورا پورا انصاف ہوگا۔”دوسری جانب مقتولین کے والدین اور دیگر رشتے داروں نے ملوث فوجیوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔