بھارت نے جموں وکشمیر کے لیے غذائی اجناس میں30 فیصد کمی کردی


سری نگر: بھارتی حکومت نے کشمیر دشمن پالیسی کے تحت جموں وکشمیر کے لیے غذائی اجناس میں30 فیصد کمی کردی ہے ۔غذائی اجناس کی تقسیم کے سرکاری محکمہ نے غذائی اجناس کی تقسیم کا عمل روک دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے سینکڑوں لوگ سرکاری طور پر کنٹرول ریٹ پر فراہم کیے جانے والے غذائی اجناس سے محروم ہوگئے ہیں ۔

کے پی آئی کے مطابق وادی کشمیر میں برفباری کے بعد لوگوں کوایک اور مشکل کااس وقت سامنا کرنا پڑا جب امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کے کمشنرسیکریٹری کے حکم سے امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے غذائی اجناس کی فراہمی میں 30%کی کمی کااعلان کیاگیا ۔

امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے 30اکتوبر 2020تک وادی کشمیر کوہرماہ تین لاکھ 31ہزار 2021.51کوئیٹل غذائی اجناس فراہم کئے جاتے تھے جس میں اے اے وا ئی زمرے کے صارفین کے لئے 52ہزار 883.85کوئیٹل این پی ایچ ایچ کے لئے ایک لاکھ 14ہزار 988.55کوئیٹل پی ایچ ایچ کے لئے ایک لاکھ 64ہزار 149.15کوئیٹل فراہم کئے جاتے تھے۔ 30اکتوبرکے بعد اب اے اے وائی اوردوسرے زمروں کے تحت آنے والے صارفین کے لئے 31%غذائی اجناس کی کمی کی گئی ہے۔ اب امورصارفین عوامی تقسیم کاری کی جانب سے 20849.89کوئیٹل غذائی اجناس فراہم کئے جاتے ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیریوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز

امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ نے اب یہ بھی شرط لگا دی ہے کہ راشن کے حصول کے لیے آن لائن راشن کارڈ لازمی ہے ۔ انٹرنٹ کی بندش سے آن لائن راشن کارڈ کا استعمال اور حصول بھی ممکن نہیں۔عوامی حلقوں نے امورصارفین عوامی تقسیم کاری کی اس کارروائی پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت اور جموںو کشمیرانتظامیہ سے وادی کے لوگوں کومصائب ومشکلات میں مبتلاکر نے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جارہاہے۔

ایک طرف برف باری کے طوفان نے لوگوں کوبری طرح سے اپنی لپیٹ میںلیا ہے۔ لوگ مصائب و مشکلات سے دوچار ہے اوردوسری جانب امورصارفین محکمہ نے غذائی اجناس کی فراہمی میں 30%کی کٹوتی کرکے غریب عوام پر ایک اور تلوار لٹکادی ہے ۔