کشمیریوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز


سری نگر: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نشاندھی کی ہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں بھارتی فوجی اقدامات، مسلسل لاک ڈاون، محاصروں، بندشوں، سے کشمیریوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لیے نیویارک ٹائمز کے خصوصی نمائندے ایملی سے مال Emily Schmall نے مقبوضہ کشمیر  میں ہاوس بوٹ کے ختم ہوتے ہوئے کاروبار سے متعلق اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ  پابندیوں کے باعث اب سیاح کشمیر کا رخ نہیں کرتے  چنانچے ہاوس بوٹ والوں کا کاروبار ختم ہو گیا ہے ، کشمیر کی  معاشی صورت حال خراب ہے ۔

بھارت ، پاکستان اور بھارت کے مابین جموں وکشمیر  پر کئی دھائیوں سے کشیدگی ہے ۔ کشمیر ایک خوبصورت علاقہ ہے مگر ان دنوں اس خطے میں نظام زندگی معطل ہے ایک سال سے ، اسکول بند ہیں، لاک ڈاون  ختم ہوتا ہے پھر لگتا ہے ۔ پہلے بھارت نے کشمیر میں اضافی فورسز دستوں کو  داخل کیا پھر کرونا نے حملہ کر دیا تب سے  لاک ڈاونز کا سلسلہ جاری ہے ۔

نیویارک ٹائمز نے نشاندھی کی ہے کہ جموں وکشمیر سڑکیں فوجیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ فوجی بنکر ، جو برسوں پہلے ہٹا دیئے گئے تھے ، واپس آ گئے ہیں ۔ بہت سی جگہوں پر سڑک کٹ گئی ہے بنکر بن گئے ہیں۔ شاہراہوں پر ، فوجی مسافر گاڑیوں کو روکتے ہیں اور مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے لئے بے عزت کرتے ہیں۔ یہ ایک منظر1990 کی دہائی  کی یاد دلاتا ہے جب ایک مسلح  تحریک شروع ہوئی اور ہندوستانی حکومت نے اس کو کچلنے کے لئے  بڑی تعداد میں فوج کشمیر میں بھیجی ۔

اخبار کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام  کشمیر واحد مسلم اکثریتی خطہ ،  ہے کشمیر  کا تنازعہ کئی دہائیوں سے موجود ہے ۔ مسلح مزاحمت  جاری ہے ۔ 1990 کے بعد سے اب تک ہزاروں عسکریت  پسند عام شہری اور فورسز اہلکار مارے گئے ۔ ہندوستان اور پاکستان اس خطے پر دو بار جنگ کر چکے ہیں ۔ کشمیرہندوستان اور پاکستان کے مابین تقسیم ہوچکا ہے ۔ دونوں اس کے دعوے دار ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیر کی تقسیم کا کوئی فارمولا قابل قبول نہیں، ڈاکٹر خالد محمود

ہندوستانی حکام کشمیر کو متنازعہ  کہنے کو بھی جرم تصور کرتے ہیں۔ اسے بغاوت قرار دیا گیا ہے ۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال  30 سالوں کے تنازعہ میں اب تک کا سب سے خراب دور  رہا ہے۔ بھارتی حکومت  نے 5 اگست 2019 میں اس خطے کی اندرونی  خودمختاری ختم کر دی تھی ۔

کشمیریوں کے زمین و روزگار کے وراثت کے حقوق منسوخ ہوجائیں گے۔نصف ملین فوجی کشمیر میں  آئے ایسا منظر کشمیریوں نے کبھی نہیں دیکھا ہے۔۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوفزدہ ہیں۔ کشمیر کے متمول ترین ، انتہائی معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماںکو گرفتار کیا گیا اور انھیں کئی مہینوں تک قید رکھا گیا۔