یاسین ملک کے خلاف 30 سال پرانے مقدمے میں فردجرم عائد کر دی گئی


نئی دہلی ، جموں:جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیرمین محمد یاسین ملک کے خلاف 30 سال پرانے مقدمے میں فردجرم عائد کر دی گئی ہے۔  انسداد  دہشت گردی کے قانون ٹاڈا کے تحت جموں میں ٹاڈا ،پوٹا عدالت میں محمد یاسین ملک کو نئی دہلی کے تہاڑ جیل سے ویڈیو لنگ کے زریعے  پیش کیا گیا۔

اس موقع پر سابق بھارتی وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے میں  فردجرم عائد کی گئی۔ محمد یاسین ملک  پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر8 دسمبر1989 کو اس وقت  کے بھارتی وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ سعید کو اغوا کیا تھا۔اس سے قبل ، پچھلے سال جموں میں ٹاڈا عدالت کے پریذائیڈنگ آفیسر کی عدالت میں یاسین ملک اور دیگر چھ افراد کے خلاف 1990 میں بھارتی ائر فورس کے  چار اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔۔

ان کیسوں میں پولیس نے جن کو ملزم ٹھہرایا ہیں ان میں محمد یاسین ملک اور شوکت بخشی کے علاوہ، جاوید احمد میر، وجاہت بشیر قریشی، محمد سلیم ننھا جی، جاوید احمد زرگر، منظور احمد صوفی ، انجینرعلی محمد میر، محمد اقبال گندرو، محمد ضمان میر اور معراج احمد شیخ شامل ہیں۔جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیرمین محمد یاسین ملک  ان دنوں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔