ٹرمپ کو اقتدار سے کیسے نکالا جائے؟ اسپیکر نے منصوبہ سامنے رکھ دیا


واشنگٹن:ڈیموکریٹس نے امریکی صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپنے پلان کو حتمی شکل دے دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے امریکی صدر ٹرمپ کو اقتدار سے نکالنے کا حتمی پلان قانون سازوں کے سامنے رکھ دیا جس کے تحت مواخذے سے پہلے ہی ٹرمپ کو صدارتی آفس سے نکالنے کا عمل شروع کیا جائیگا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسپیکر نینسی پلوسی کے منصوبے کے مطابق ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پر ووٹنگ کی جائے گی جس کے ذریعے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ٹرمپ کو اقتدار سے نکالنے کا مطالبہ کیا جائے گا جب کہ اس طریقہ کار کے ناکام ہونے کی صورت میں ڈیموکریٹس ارکان کیپیٹل ہل حملے میں ٹرمپ کے متنازع کردار پر ایک چارج شیٹ پیش کریں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپیکر نینسی پلوسی نے قانون سازوں کو خط ارسال کیے جس میں انہوں نے 25 ویں ترمیم کے ذریعے قرارداد کے تحت نائب صدر سے امریکی صدر کو ہٹانے کی باضابطہ درخواست کرنے کے منصوبہ سے آگاہ کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قراردار امریکی نائب صدر مائیک پینس کو یہ اختیارات سونپے گی جس کے تحت وہ ٹرمپ کو ہٹا کر خود قائم مقام صدر بن سکتے ہیں۔نینسی پلوسی نے اپنے خط میں کہا کہ ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے یہ پہلا قدم ہوگا جس کے بعد ایوان میں ڈیموکریٹس ارکان مواخذے کی تحریک پر کارروائی شروع کریں گے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے اقتدار کے آخری ایام میں فلسطین میں یہودی آبادکاری میں توسیع

نینسی پلوسی نے کہا کہ امریکی آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہم اس منصوبے پر فوری عمل کریں گے کیونکہ امریکی صدر کے دفتر میں ٹرمپ کی موجودگی امریکا اور جمہوریت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔واضح رہے کہ 7 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے انتخابات میں شکست پر امریکی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے جب کہ امریکی صدر نے اس عمل پر اپنے حامیوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے بعد ٹوئٹر نے ان کا ذاتی اکانٹ بھی مستقل طور پر بند کردیا جب کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی ٹرمپ کی پوسٹیں بلاک کردی گئی ہیں۔